ابنا: کئی برس سے اقوام متحدہ کے رکن ممالک اقوام متحدہ خاص طورپر سلامتی کونسل کےڈھانچے میں اصلاح کی درخواست کررہے ہیں لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کسی قسم کا کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے ۔صرف غیر مستقل رکن ممالک ہی سلامتی کونسل میں اصلاح کا مطالبہ نہیں کررہے ہیں بلکہ روس جیسامستقل رکن ملک بھی سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں اصلاح کاخواہاں ہے ۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے سلامتی کونسل میں ہندوستان اور برزیل کی مستقل رکنیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہےکہ اس اہم ادارے کے ڈھانچے میں عالمی برادری اور تمام رکن ممالک کے نظریات کے مطابق اصلاح ہونی چاہئيے ۔ لاؤروف نے 24 دسمبر کو رشا ٹوڈے ٹی وی چینل سے انٹرویو میں یہ تاکید کرتے ہوئے کہ روس سلامتی کونسل میں مستقل رکن میں اضافہ کے پیش نظر رکن ممالک کی تعداد میں بھی اضافہ چاہتا ہے کہا کہ ہندوستان اور برزيل جیسےمالک سلامتی کونسل کےمستقل رکن بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ روس کے وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں اصلاح کی تجویز کو بہت ہی حساس اور اہم اقدام قرار دیا ۔اس تجویز کم عملی جامہ پہنانے کے لئے ضروری ہے کہ طرفین کے درمیان اتفاق پایا جائے انھوں نے تاکید کی کہ رائے اورووٹنگ کے ذریعہ اصلاح کی صورت میں صرف اختلافات میں اضافہ کے علاوہ اور کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔آخری مرتبہ سن انیس سو پینسٹھ میں گیارہ رکن کے اضافے کے ساتھ سلامتی کونسل میں اصلاح کی گئی اور مستقل رکن ممالک کے حق ویٹو میں کوئی تبدیلی عمل میں نہیں لائی گئی ۔ سلامتی کونسل کے مستقل رکن میں امریکہ ، روس ، چین ، برطانیہ اور فرانس شامل ہیں ۔ قابل ذکر ہے کہ سلامتی کونسل 66 برس قبل دنیا میں امن وسلامتی قائم کرنے کے لئے تشکیل دی گئی ،جبکہ اس دوران دنیا میں بہت سی تبدیلیاں آگئیں لیکن خود اس میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں آئي اور اس کے ڈھانچے میں کسی قسم کی کوئی اصلاح نہیں ہوئی۔ البتہ غیر ضروری چیزوں میں کچھ تبدیلیاں ضرور آئی ہیں جیسے چھ رکن سے بڑھ کر دس رکن اور سابق سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد روس کو مستقل رکن اور ویٹو پاور دے دیا گیا ۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ براعظم اور دنیا کے بعض علاقے سےکوئی بھی ملک سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہی نہیں ہے ۔مثال کے طورپر پچپن ممالک پر مشتمل براعظم افریقہ سے کوئی بھی ملک سلامتی کونسل کا مستقل رکن نہیں ہے چھپن ممالک پرمشتمل ایشیا سے صرف ایک ملک یعنی چین سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے ۔ اڑتالیس ممالک پر مشتمل یورپ سے تین ممالک سلامتی کونسل کے نہ صرف مستقل رکن ہیں بلکہ انھیں ویٹوپاور بھی حاصل ہے ۔امریکہ بھی بر اعظم امریکہ کے نمایندے کی حیثیت سے سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے ۔، جس سے امریکہ کے لئے غلط استفادہ کرنے کے اسباب فراہم ہوگئے ہیں ۔ تیسری دنیا کے ممالک نیز تیل برآمد کرنے والے اوپک ممالک بھی سلامتی کونسل کے مستقل رکن نہیں ہیں ۔اسی طرح ایک ارب سے زیادہ آبادی پر مبنی اسلامی ممالک بھی سلامتی کونسل کے مستقل رکن نہیں ہیں ، اس بارے میں اسلامی ممالک نےسلامتی کونسل میں ایک مستقل رکن کے لئےبارہا اپیل کی ہے ۔ یہ ایسے وقت ہے کہ ترقی یافتہ اور نوظہور اقتصادی ممالک پر مشتمل گروپ بیس بھی جس میں جاپان ، جنوبی افریقہ ،برزیل اور جرمنی جیسے ممالک شامل ہیں سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں اصلاح کا خواہاں ہے ۔ ان ممالک کا کہنا ہےکہ عالمی سطح پر دنیا میں طاقت کے لحاظ سے آنے والی تبدیلیوں اور اقتصادی اور سیاسی میدان میں بعض ملکوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر اقوام متحدہ خاص طور پر سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں تبدیلی اور مستقل رکن کی تعداد میں اضافہ اور مستقل رکن ممالک خاص طورپر امریکہ کے ویٹو پاور کے استعمال کے بارے میں موجود قوانین تبدیل ہونے چاہيئں ۔
.......
/169